0

سلسلۃ الذھب

سلسلہ ذہب
(آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے معروفِ کرخی ؒتک)
رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام تک روحانی اسرار و رموز یداً بیداً منتقل ہوتا رہا اسرار تصوّف کی منتقلی کا یہ دور سلسلہ ذہب کہلاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے امام علی رضا علیہ السلام تک آئمہ اہل بیت ہر قسم کی شک و شبہ اور غل و غش سے پاک و منّزہ ہیں۔ جس طرح زر خاص ہر قسم کے میل کچیل اور کھوٹ و ملاوٹ سے پاک و صاف ہو تا ہے اسی طرح یہ آئمہ بھی ان سے پاک و منّزہ ہیں (۱) چنانچہ اسے سلسلہ ذہب یعنی خاص سونے کی زنجیر کہا جاتا ہے۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے ارشاد و خلافت کی ذمہ داری حضرت معروف کرخی ؒ کو منتقل ہوئی تو سلسلہ ذہب کی بجائے سلسلہ معرفیہ سے موسوم ہا۔

سلسلہ معروفیہ
(حضرت معروفِ کرخیؒ تا حضرت شیخ جنید بغدادیؒ)
علومِ طریقت حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بذریعہ حضرت علی علیہ السلام حضرت امام علی رضا علیہ السلام تک پہنچا عرفان و سلوک کا یہ دور سلسلہ ذہب کہلایا۔ پھر بیعت کا سلسلہ امام علی رضا علیہ السلام نابالغ فرزند ارجمند حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے بجائے ان کی نامور مرید حضرت معروف کرخی ؒمیں منتقل ہوا۔حضرت معروف کرخیؒ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے خاص خدمت گزار مرید تھے ۔ عبادات گزاری، تقوی ٰ اور خدمت گزاری میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔اسی لئے انہیں حضرت امام علی رضا علیہ السلام ے روحا نی علوم سے مزّین کرنے کے بعد اپنا خلیفہ بنا لیا۔

سلسلہ جنیدیہ
حضرت شیخ جنید بغدادیؒ تا حضرت شیخ ابو نجیب سہروردیؒ
حضرت معروف کرخی اور سری سقطی کے دور اور دوسری صدی ہجری میں سلسلتہ الذاہب کا دوسرا نام معروفیہ رہا۔ جب سری سقطی کی تربیت اور خصوصی توجہ سے آپ کے مرید صادق ابو القاسم جنید بغدادی کندی بن کر نکلے تو معروفیہ کے نام سے موسوم ہوا۔

سلسلہ سہروردیہ
( حضرت شیخ ابو نجیب سہروردی تا حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ )
شیخ جنید بغدادی سے شیخ احمد غزالی تک دین اسلام کا یہ روحانی سلسلہ جنید یہ کے افتخاری نام سے موسوم رہا ۔پھر شیخ ابوالنجیب،ضیاء الدین ،عبدالقاھر سہروردی اور شاگر دشیخ شہاب الدین سہروردی کے دوراور پانچویں صدی سے سہروریہ کہلانے لگا ۔

سلسلہ کبرویہ
(حضرت شیخ نجم الدین کبریٰؒ تا امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ)
حضرت شیخ ضیا الدین سہروردی اور شیخ عمار یاسر بدیسی کے زمانے میں یہ سلسلہ سہروردیہ کے نام نامی سے موسوم رہا۔ پھر شیخ عمار یاسر بدیسی کے مرید خاص شاگرد اور روحانی فرزند شیخ ابوالجناب نجم الدین کبریٰ کے زمانے چھٹی صدی ہجری سے یہ سلسلہ کبرویہ کہلانے لگا۔

سلسلہ ہمدانیہ
(حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ تا حضرت سید محمد نوربخشؒ)

شیخ الدین کبریٰ سے شیخ محمودمزدقانی کے زمانہ یعنی چھٹی صدی ہجری تک یہ سلسلہ کبرویہ کے نام سے موسوم رہا بھر شیخ محمود مزدقانی کے مرید اور خلیفہ میر سید علی ہمدانی المعروف بہ شاہ ہمدان کے زمانے میں ہمدانیہ موسوم ہوا ۔

سلسلہ نوربخشیہ
(حضرت سید محمد نور بخشؒ تا ایں دم تحریر )
حضرت امیر سید علی ہمدانیؒ اورحضرت خواجہ اسحاق ختلانیؒ کے زمانے میں دین اسلام کا یہ روحانی نظام ہمدانیہ کے نام سے موسوم رہا پھر خواجہ اسحاق ختلانیؒ کے مرید،خلیفہ اور شاگرد خاص میر سید محمدنوربخش قہستانیؒ سے یہ سلسلہ نوربخشیہ کہلایا جو بھی تک اسی نام سے موسوم ہے۔ بعض دانشوروں کا یہ کہنا کہ سید محمدنوربخشؒ ہی سلسلہ نوربخشیہ کا بانی ہے۔ راقم کے نزدیک درست نہیں چونکہ آنحضرت سے سید محمدنوربخشؒ تک بڑے بڑے ولی اللہ ہو گزرے ہیں۔ ان اولیاء کی نسبت سے پیروکاروں کے نام میں تبدیلی آتی رہی لیکن ان کے وظائف ،اعمال،ریاضت،مجاہدے اور عبادات ایک تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں