0

شیخ علاء والدولہ سمنانی رحمۃ اللہ علیہ

شیخ علاء والدولہ سمنانی رحمۃ اللہ علیہ

تحریر          عبدالرفیع حقیقت رفیع فرہنگ قومس سال ششم شمارہ ۲۰م
مترجم سید سلطان شگری

’’نوٹ: یہ مقالہ ایران کے مشہور دانشور اور محقق عبدالرفیع حقیقت رفیع نے لکھ کر فرہنگ قومس سال ششم شمارہ ۲۰ میں شائع کیا ہے۔ موصوف نے سمنانی  رحمۃ اللہ علیہ  کا مکمل دیوان بھی خمخانۂ وحدت کے نام سے شائع کی تھی۔ یہ مضمون صفحہ ۷۳ سے ۱۰۰ تک یعنی کل ۲۷ صفحات پر پھیلا ہوا ہے ہم اردو میں اس مضمون کی تلخیص یہاں دے رہے ہیں۔ مضمون محمدیعقوب براہوی حال مقیم سویڈن نے فراہم کیا ہے ۔‘‘

شیخ ابوالمکارم، رکن الدین، علاوالدولہ احمد بن محمدبن احمد بیابانکی سمنانی رحمۃ اللہ علیہ  ساتویں صدی ہجری کے اواخر اور آٹھویں صدی ہجری کے اوائل میں ایران کے نمایاں ترین عرفاء میں سے ہیں۔ عزت نفس، قوت ذاتی، بے نیازی، فارغ البالی اور منصب ودولت سے عدم دلچسپی کی بناء پر سمنان کا یہ محقق، عارف اور شاعر ایران کے عارفانہ افکار کی تاریخ میں بلند مقام رکھتا ہے اور اسی سبب سے آپ کو اپنے زمانے کے تمام فکری پیشواؤں سے ممتاز کرکے حیران کن برتری عطا کرتا ہے ۔

یہ عقلمند اور زیرک عارف ذی الحجہ ۶۵۹ھ کو سمنان سے ۱۲ کلومیٹر دور بیابانک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ شیخ علاوالدولہ سمنانی رحمۃ اللہ علیہ  کا تعلق سمنان کے ایک قدیمی دولت مندخاندان ملک سے تھا اسی وجہ سے بعض تذکرہ نویس جیسے جامی وغیرہ نے ان کو سمنان کے بادشاہوں میں شمار کیا ہے۔ لیکن شیخ علاوالدولہ رحمۃ اللہ علیہ  نے خود کتاب العروۃ کے آخر میں لکھا ہے کہ ان کے آباء واجداد سندھ سے تھے جنہوں نے سمنان میں سکونت اختیار کی اور آپ اسی شہر میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔

شیخ علاوالدولہ کے والد ملک شرف الدین محمد ایلخانی سلاطین ارغون خان اور غازان خان کے دربار میں مقام ومرتبہ اور عزت واعتبار رکھنے والا تھا۔ فصیح احمد خوافی کے مطابق ملک شرف الدین محمد ارغون خان کے حکم سے ۶۸۷ھ میں “ملکی بغداد ” مقرر ہوئے ملک شرف الدین محمد”ملکی بغداد” جو ایلخانی دور میں مختلف صوبوں کے حکمران کا عہدہ تھا،منتخب ہونے کے ایک سال بعد ان کے بھائی ملک جلال الدین ارغون خان کے حکم سے قتل کردیے گئے لیکن ملک شرف الدین محمد اسی طرح اپنے عہدے پر فائز رہے۔ رشیدالدین فضل اﷲ ہمدانی کی تحریرکے مطابق آپ نے غازان خان (۶۹۴ھ تا ۷۰۳ھ) کے بعد کے دور میں “الغ بیکتچی”کا عہدہ حاصل کیا۔ غازان خان نے اپنی حکومت کے استحکام سے پہلے ہی یہ عہدہ شرف الدین محمد کو عنایت کی تھی۔ شرف الدین محمد نے یہ عہدہ ۶۹۵ھ تک سنبھالے رکھا یہاں تک کہ اس سال جمال الدین دستجردانی ان کی جگہ منتخب ہوگئے۔ اسی سال ملک شرف الدین محمداپنے بھائی کی طرح مصیبت میں پھنسے اور غازان خان کے حکم سے مارے گئے ۔

شیخ علاوالدولہ رحمۃ اللہ علیہ  کی والدہ رکن الدین صاین سمنانی کی بہن تھیں جو ایلخانی دور کے قاضیوں اور عالموں میں سے تھے اور علاوالدولہ نے فقہ اور حدیث کے ابتدائی علوم انہی سے حاصل کی۔کتاب العروہ میں خود شیخ اوربعض مورخین اور تذکرہ نویسوں کے خیال کے مطابق آپ نے سمنان کے گاؤں کے مکتب میں پڑھنا لکھنا سیکھا۔ پھراعلیٰ تعلیم حاصل کرنے لگے جب ۱۵ سال کو مدرسے سے نکلا تو کچھ اعلیٰ علوم عقلی ونقلی میں سے حاصل کرچکے تھے۔ اس کے بعد اپنے خاندانی روش پر چلتے ہوئے صاحب مسند کی ملازمت اختیار کی جب مغل ایلخانیوں کے دربار کا حصہ بن گئے پھر مختصر مدت میں مخصوص مہربانیوں کے لئے بھی مرکز توجہ قرار پائے۔ یہاں تک کہ حکومت کے اراکین، امراء اور وزراء آپ سے حسد کرنے لگے۔ خود شیخ بھی ملازمت کی انجام دہی کے بہت شوقین تھے اس حد تک کہ نماز کی ادائیگی میں بھی سستی وکاہلی آجاتی۔ زیادہ کام کی وجہ سے اپنے یاد کردہ اسباق میں سے ایک ورق بھی پڑھنے کا موقع نہیں ملتاتھا۔

شیخ علاوالدولہ سمنانی رحمۃ اللہ علیہ  کی ملازمت مغل ایلخانیوں کے دربار میں ۱۰ سال ۶۷۴ھ سے ۶۸۳ھ تک یعنی اباقاخان کے بعد ارغون خان کی حکومت میں بھی اسی طرح جاری رہی۔ حمد اﷲ مستوفی جوکہ شیخ علاوالدولہ سمنانی کا ہم عصر ہیں، لکھتے ہیں کہ ارغون خان کے دور میں ملازمت کرتے تھے یعنی حکومتی امور کی انجام دہی میں وقت گزارتے تھے اسی بات کو دوسروں بالخصوص خواند میر اور دولت شاہ نے دھرایا ہے۔

چہل مجلس کی تحریر، خود شیخ کی تصنیف العروہ اور دیگر شواہد و قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ارغون خان سلطان احمد تکودار سے جنگ کے لئے روانہ ہوئے جوکہ قزوین کے نزدیک ۶۸۳ھ میں لڑی گئی۔ شیخ اس وقت ارغون خان کے ہم عصر اور ملازم تھے۔ دوران جنگ اﷲ کی جانب سے شیخ کے اندرایک جذبہ پیدا ہوا اور اچانک حکومتی قبا، کلاہ اور اسلحہ اتار پھینک دیا، صالحین کا خرقہ پہن کر توبہ کیا اور عبادت وریاضت میں مشغول ہوگئے۔ کم سونے،کم کھانے،کم بولنے اور ہر رات ۱۰ دنوں کی نمازوں کی قضا بجالانے اور قرآن پاک کی ۵آیتیں یاد کرنے کومعمول بنایا۔اﷲ کی عبادت میں بادشاہ کی ملازمت کی کوئی پرواہ نہیں رہی۔ یہاں تک کہ۶۸۵ھ میں تنگ آکر ارغون خان کی اجازت سے سمنان چلے گئے اور ۲۶ سال حصول علم، تطہیر اخلاق اور طلب سلوک میں منہمک ہوگئے۔ نحو میں زمحشری کی کتاب “مفصل “اور ابن حاجب کی کتاب “کافیہ”سید اخفش نامی عالم سے اور حدیث میں صحیح مسلم اپنے ماموں رکن الدین صاین سمنانی اور رشید الدین بن ابی القاسم سے پڑھی۔

استاد ذبیح اﷲ صفا شیخ  علاوالدولہ کی زندگی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ہوش سنبھالنے کے بعد شیخ کی زندگی میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ کچھ اس وجہ سے کہ آپ ملازمت پیشہ تھے اور بڑی ذمہ داریوں کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ سیاسی کاموں میں ہی آپ کا وقت گزرجاتا تھا۔ آپ کا شمار ایلخانی دور کے سرفہرست درباریوں میں ہوتا تھا۔ بعد ازاں آہستہ آہستہ اپنے آپ کو عالمانہ اور فقیرانہ زندگی کی طرف مائل کرتے گئے۔

شیخ اپنے احوال کے ذکر میں اس واقعے کے بعد زہد وتہجد سے رغبت اور دنیاوی کاموں سے اعراض کے بارے میں بھی بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ اس وقت تک آپ خان کی فوج سے وابستہ تھے لیکن ہماری معلومات کے مطابق ۶۸۵ھ کو آپ کسی بیماری کی وجہ سے ارغون خان کی فوج سے سمنان کی طرف روانہ ہوگئے لیکن اب تک رسمی طورپردرباری کاموں سے مستعفی نہیں ہوئے تھے ۔

فصیح احمد خوافی بھی فوج سے شیخ علاوالدولہ کے نکلنے اور سمنان روانہ ہونے کے واقعات کے بیان میں یہی سال تحریر کرتے ہیں ۔

شیخ علاوالدولہ سمنان واپس لوٹنے کے بعد حصول علم کے لئے کمربستہ ہوگئے۔ خاص کر فقہ، حدیث اور علوم ادبی کی طرف توجہ دی اس حالت میں بھی سلوک کے مراحل طے کرنے سے غافل نہیں رہے اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کردیے حقداروں کے حقوق مکمل ادا کیے اور باقی اموال کو وقف کر دیے سمنان کے خانقاہ سکاکیہ کو جوکہ پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کے شیخ حسن سکاکی سمنانی سے منسوب ہے، کی تعمیر ومرمت کی اوراس میں چلے بجا لائے۔

اس کے بعد شیخ علاوالدولہ نے نورالدین عبدالرحمن اسفرائنی کی خدمت سے فیضیاب ہونے کے لئے بغداد کا سفر کیا اور ۶۸۷ھ یعنی ۲۸ سال کی عمر میں ایلخان سے اجازت لے کر اپنے مطلوب کی مریدی اختیار کرنے کے لئے بغداد پہنچ گئے اس کے بعد ادائیگی حج کےلئے مکہ تشریف لے گئے یہ آپ کا پہلا حج تھا اس کے بعد کئی مرتبہ آپ نے حج بیت اﷲ ادا کیے یہ تمام باتیں تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں العروہ سلوۃ العاشقین میں بیان کی ہیں۔

شیخ علاوالدولہ نے بہت سے محدثین سے بھی اجازت حاصل کی اور خود محدثین میں شمار ہوئے۔ منتخب المختارکی روایت کے مطابق اس سفر میں جو آپ نے بغداد کی طرف کیا حدیث یاد کرنے میں مشغول رہے اور الدرر اکامنہ کی روایت کے مطابق چند مشہور لوگ جیسے صدر الدین حمویہ، سراج الدین قزوینی اور امام رکن الدین بکری نے آپ سے حدیث اخذ کیا۔

شیخ علاوالدولہ ترک وتجرید میں بھی بہت آگے بڑھے اپنے غلاموں کو آزاد کردیا اپنے مال سے شبہہ دور کیابہت سے املاک کو وقف کر دیے۔مضبوط دلائل کے ساتھ اپنے بیٹوں، متولیوں کے بیٹوں، قریبی لوگوں اور خدمتگاروں کو اپنے آباء کی جانشینی سے روک لیاتاکہ آپ کے موقوفات میراث میں نہ چلی جائے۔

ابوالحسن بستی کے دوست اور شیخ علی فارمدی کے شاگرد پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کے شیخ حسن سکاک سے منسوب خانقاہ سکاکیہ سمنان کو آپ نے دوبارہ تعمیر کیا اور سمنان و صوفی آباد سمنان میں اور خانقاہ بنایے اور املاک کو ان پر وقف کیا۔

راہ سلوک پر چلنے کی ابتداء قوت القلوب ابوطالب مکی ۳۸۶ھ، احیاء العلوم غزالی اور دوسرے عارفین کی تحریروں پر بنیاد رکھتے ہوئے کی۔ تاہم ان ریاضات، عبادات اور مختلف مشائخ کی کتابوں سے حاصل شدہ افکار سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ آپ کی قسمت کی صبح طلوع ہوئی اور سید شرف الدین علی سمنامی جو شیخ نورالدین عبدالرحمن اسفرائنی کے مرید اور بغداد میں مسند ارشاد پر متمکن تھے، سمنان پہنچ گئے اور شیخ علاوالدولہ سمنانی کو نورالدین عبدالرحمن اسفرائنی کی زیارت کی آرزو اور بغداد کے سفر کی ترغیب دی۔  علاوالدولہ ارغون خان مغل کی مخالفت کے بعد آخر کار ۶۸۷ھ۲۶سال کی عمر میں بغداد چلے گئے اور شیخ کی خدمت کا موقع حاصل کیا اور انہی کے حکم پر حج ادا کیا اور بغداد لوٹ آیا اور اپنے مقصود شیخ  عبد الرحمن اسفرائنی کی خدمت میں مصروف ہوگئے اور ان کی خانقاہ میں مجاہدت، ریاضت اور کسبِ فیض جاری رکھا اس عارف کی خرقہ کی نسبت دو واسطوں سے شیخ نجم الدین کبریٰ تک پہنچتی ہے۔

اس مشہور عارف کے شرح حال لکھنے والوں اورمصنفین کی وضاحت کے مطابق شیخ علاوالدولہ کا ان کی خدمت اور دورۂ سلوک کا زمانہ ۶۸۹ھ میں مکمل ہوگیا اور آپ نے اسی سال ارشاد وسلوک کی اجازت حاصل کی۔ آپ کے دیوان میں آپ کی یادداشت کے ضمن میں ایک کلام آیا ہے کہ آپ ۶۸۹ھ تک شیخ نورالدین عبدالرحمن اسفرائنی کی خدمت میں مشغول تھے۔ مزید برآں اسی مریدی کے زمانے میں یا شاید اس کے بعد کچھ مدت بلاد شام اور دیگر علاقوں کی سیر میں بسر کیے چنانچہ ہم ان کے دیوان میں ایک غزل اس مطلع کے ساتھ دیکھتے ہیں۔    ؎

ترا  جانا  سر و  سودای ما نیست

ویا از حسن خود پروای ما نیست

اے محبوب! تمہیں ہمارا کوئی لحاظ نہیں یا اپنے حسن کی وجہ سے تم کوہماری پروا نہیں ہے؟

یہ کلام ۶۹۹ھ میں انہی علاقوں میں لکھنا شروع کیا اور اس کے بعد ۷۲۱ھ میں اس کے باقی حصے کو صوفی آباد سمنان میں مکمل کیا ہے اور یہ تسلیم شدہ ہے کہ آپ کے دیوان میں وہ غزل جس کا مطلع یہ ہے۔    ؎

ترک قدس وشام گیریم وسوی سمنان شویم

وقت آن آمد کہ دربستان جان مستان شویم

اسی زمانے سے مربوط ہیں۔

بہرحال شیخ علاوالدولہ سمنانی نے خود ایک خط میں جو کمال الدین عبدالرزاق کاشانی کے جواب میں لکھا یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ۳۲ سال آپ نے نورالدین عبدالرحمن اسفرائنی کی خدمت میں گزارے۔ اگر ایسا ہے تو مجموعی طورپر نورالدین عبدالرحمن اسفرائنی کی خدمت میں مریدی اور صحبت کا آغاز سال ۶۸۷ ھ سے ہوا ہوگا۔ اور اپنے مرشد کی وفات یعنی ۷۱۷ھ یا ۷۱۹ھ تک جاری رہا ہوگا تاہم یہ وقفے وقفے سے ہے مسلسل اور ہمیشہ نہیں ۔ایسا سوچھنے میں کوئی ہرج نہیں کہ ۲سال کی ابتدائی ریاضات کے بعد اپنے مرشد کی نیابت کرتے ہوئے لوگوں کی تعلیم و ارشاد کے لئے سمنان لوٹ آئے ہوں اور اسی حالت میں کئی بار مراتب راہِ سلوک کی تجدید اور کسبِ فیض کے لئے اپنے شیخ کی خدمت میں گئے ہوں اور وہاں سے حج کے لئے اور وادئ قدس وشام کی سیاحت کے لئے گئے ہوں اور پھر اپنے مرکزتعلیم وارشاد کی طرف واپس لوٹ آئے ہوں۔

شیخ علاوالدولہ نے ۱۶ سالوں میں یعنی سال ۷۲۰ھ  سے ۷۳۶ھ تک خانقاہ سکاکیہ میں ۱۲۰ اربعین بجا لائے اسی ترتیب سے مجموعی طور پر آپ نے ۲۷۰ اربعین بجا لائے جوکہ ۳۰ سال یا ۱۰۰۸۰دن بنتے ہیں۔ آپ ذکر میں یکسوئی اور خلوص  کے لئے کوشاں رہے یہاں تک کہ اعلی روحانی مقام حاصل کرلیا اور صاحب کرامت بنے اپنے زمانے میں مشہور اور بعد میں آنے والوں کے لئے جامع سلاسل بن گئے۔

دنیا کے اطراف سے دل شکستہ اور نامراد مریدین فیض حاصل کرنے کے لئے آپ کی فیض بخشنے والی مجلس سے خوشہ چینی کے لئے صوفی آباد آتے تھے اور فیض کی خاطر سمنان میں آپ کی خدمت میں رہتے تھے۔ ان میں مشہور ترین مندرجۂ ذیل ہیں۔ شیخ تقی الدین علی دوستی سمنانی، شیخ شرف الدین محمودمزدقانی، اخی علی مصری، اخی عبداﷲ حبشی، اخی علی رومی، علاوالدین ہندو، محمد مومن آبادی سمنانی، پیر حیدر سمنانی مقیم ومدفون تبریز، عبداﷲ گرجستانی، امیر اقبال سیستانی، اخی علی سیستانی، شمس الدین گیلانی، شاہ علی فراہی، شیخ خلیفہ ماژندرانی، عبیداﷲ بیدآبادی اور معروف شاعر خواجوی کرمانی۔

اسی طرح بزرگوں، مقام ومرتبہ والوں، باشاہوں، اپنے زمانے کے مشائخ وعرفا جیسے رشیدالدین فضل اﷲ ہمدانی صاحب جامع التواریخ وزیر اعظم غازان خان، امیر چوپان، امیر نوروز اور بڑے بڑے مغل سردار شیخ کی خدمت حاصل کرنے کے لئے صوفی آباد آتے تھے اور آپ سے ملنے کو غنیمت جانتے تھے اور کبھی بڑی محفلوں میں شرکت کے لئے آپ کو عزت واحترام کے ساتھ پایۂ تخت بلاتے تھے ۔

مؤلف اعیان العصر جو خود  شیخ علاوالدولہ کے ہم عصر تھے، لکھتے ہیں کہ سلطان ابو سعید خود شیخ کی زیارت کے لئے دوڑتے تھے۔

شیخ علاوالدولہ مرد سفر اور مرد حضر دونوں تھے کئی بار بغداد گئے اور ۳ بار حج ادا کیا۔ ایک بار امیر نوروز کی دعوت پر آستان قدس رضوی تشریف لے گئے۔ سلطانیہ محل کی تکمیل کے موقع پرسلطان اولجائتوکی دعوت پر اپنے زمانے کے بزرگوں جیسے شیخ صفی الدین اردبیلی اور علامہ حلی اور آپ وہاں تشریف لے گئے۔ اسی طرح امیر چوپان کے التماس پر اس وقت جب وہ ابوسعید سے ہراسان تھے، ان کے درمیان صلاح کے لئے ۷۲۷ھ میں آپ سلطانیہ تشریف لے گئے۔ ابوسعید نے آپ کی بڑی آؤبھگت کی لیکن امیر چوپان کے ساتھ مروت سے پیش نہیں آیا۔

دولت شاہ سمرقندی شیخ علاوالدولہ کے مقام کی صفت اور سیر و سلوک کے بارے میں لکھتے ہیں کہ شیخ جنید بغدادی کے بعد کسی نے طریقت میں آپ کی طرح قدم نہیں رکھا۔  شیخ علاوالدولہ خود اپنے رسالہ مفتاح میں فرماتے ہیں کہ کاغذ کے ہزار تہہ تصوف کی راہ میں ورسم میں سیاہ کیے باپ کی جائداداور میراث کے ایک لاکھ دینار صوفیوں پر صرف کیا۔

شیخ علاوالدولہ کی عمر کے آخری چند سال صوفی آباد جسے خداداد نام رکھا گیا تھا، کی ایک عمارت جس کوبعد میں برج احرار کہا گیا یا اس خانقاہ میں جس کو آپ نے تعمیر فرمایا، گزرگئے۔ آپ اپنی وفات تک وہیں کتابوں اور رسالوں کی تصنیف وتالیف اور فارسی وعربی اشعار کی تخلیق اور مریدین کی رشد وہدایت میں مصروف رہے اور ان سالوں کے درمیان ایک بار ۷۳۲ھ میں سفر حج کے لئے تشریف لے گئے اور خانۂ خدا کی یہ آخری زیارت تھی۔

ان کے اشعار میں کئی بار اس محلے کا نام آیا ہے جسے

خدادادکہا جاتا ہے۔  مثلاً    ؎

ای کہ گفتی کہ خداداد خداداد وازان

نام  او کرد ’’خداداد ٗ ٗ  زھی  قول سدید

یہاں تک کہ ایک بار آپ نے اپنے مرشد کو ایک غزل میں ملاقات کا شوق ظاہر کرتے ہوئے بطور کنایہ اس جگہ آنے کی دعوت دی ہے۔    ؎

ہر نسیمی کہ بمن نفخۂ بغداد آرد

ازدم عیسوی ای جان دل من یاد آرد

بردل وجان تو ابواب فرح بگشائد

ناگہان محمل تو سوی خداداد آرد

صوفی آباد برج احرار میں شیخ علاوالدولہ کی وفات کی تاریخ شب جمعہ ۲۲رجب ۷۳۴ھ لکھی ہوئی ہے۔ دولت شاہ نے اسی تاریخ کے مطابق آپ کی عمر ۷۷سال ۲ماہ اور ۴روز لکھا ہے۔ آپ کی جسد خاکی کو عماد الدین عبدالوہاب جوکہ صوبہ کومش کے مشہور سخی اور بزرگ آدمی تھے اورشیخ علاوالدولہ کو ان سے ارادت تھی ان کے آرام گاہ میں دفن کردیا گیا۔جملہ، جای اوبادا بہشت ۷۳۴ھ  مادہ ٔتاریخ وفات اور کلمہ عابد ۷۷ سے آپ کی عمر کی نشاندہی کرتی ہے۔

فصیح خوافی اور دولت شاہ سمرقندی اور معصوم علی شاہ شیرازی نے مندرجہ ذیل قطعے کو شیخ علاوالدولہ سمنانی کی تاریخ وفات کے بیان میں درج کیا ہے لیکن شاعر کا نام نہیں لکھا ۔   ؎

تاریخ   وفات  شیخ  اعظم

سلطان    محققان ِ     عالم

قطب الحق ودین علا الدولہ

برمسند خود نشست خرم

بیست ودوم ماہ رجب بود

اندر   شب  جمعہ   مکرم

از ہجرت  خاتم  النبیین

ہفتصد بگذشت وسی وشش ہم

بربوی وصال ِدوست جان داد

صدجان جہان فدای آن دم

ہفت اقلیم میں امین احمد رازی نے لکھا ہے کہ : بیان کرتے ہیں کہ آخری ایام میں آپ نے خواب دیکھا کہ قیامت قائم ہوچکی ہے تمام اعمال آپ پر ظاہر کر دیے گئے۔ مظلوم کی مدد جو آپ نے دوران وزارت کی تھی وہ تمام اعمال پر غلبہ پاچکی تھی۔ لہذا آپ نے فرمایا کہ اعمال وخیرات میں سے کوئی بھی بے چارے کی امداد اور معاونت کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا ۔

 شیخ علاو الدولہ کے اعتقادات ونظریات

شیخ علاء الدولہ کی کتابوں جیسے مطلع النقط ومجمع اللقط، سر البال فی اطوار سلوک الحال، سلوۃ العاشقین، مشارع ابواب القدس، العروۃ لاہل الخلوۃ والجلوۃ اور چہل مجلس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ تصوف میں اعتدال کے قائل تھے۔ احکام دین اور اصول تصوف کو ایک دوسرے کے ساتھ سختی سے ہم آہنگ کرنے کی طرف متوجہ تھے۔ وحدت وجود کے ماننے والوں بالخصوص ابن عربی کے ساتھ سختی سے پیش آتے اور اس طرح کے اعتقاد کو کفر اور گمراہی شمار کرتے تھے۔ جب شیخ علاوالدولہ اور کمال الدین عبدالرزاق کاشانی کے درمیان اسی بحث میں خط وکتابت ہوئی ہیں ۔

جب شیخ علاوالدولہ نے کاشانی کے اعتقاد “حق وجود مطلق ہے” کے بارے میں سنا تو ان کی تکفیر کے لئے زبان کھولی۔ شیخ عبدالرزاق نے اپنے اعتقاد کے حوالے سے شیخ علاوالدولہ کے تعصب اور سخت گیری پر ایک خط کے ذریعے ملامت کی توشیخ علاوالدولہ نے اس کے جواب میں کاشانی کے باتوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اس بات کو ہذیان قرار دیا اور اس خطرناک بھنور سے نکلنے کے لئے توبہ وانابت کی دعوت دی اور کہا کہ دھری اور طبیعی لوگ بھی اس بات کو عار جانتے ہیں۔

شیخ علاوالدولہ سلسلۂ ذہبیہ کبرویہ سے متمسک اور فقہہ میں شافعی مذہب کے پیروکار تھے جوکہ اسلام کے دیگر مذاہب میں اہل تشیع سے قریب ترین مذہب ہے اسی لئے محمد علی مدرس ریحانۃ الادب میں لکھتے ہیں کہ :

’’شیخ علاوالدولہ کے بعض کلمات سے تشیع ظاہر ہوتا ہے۔‘‘

خود شیخ علاوالدولہ نے بھی چہل مجلس میں امام جعفر صادقؑ کے قول سےشیخ علاوالدولہ کا تواضع اور انصاف اس حدتک تھا کہ مولانا نظام الدین ہروی نے شیخ کو کافر قرار دیتے ہوئے ایک خط بھیج دیا شیخ نے مولانا کا خط پڑھا اور زار وقطار رونے لگا  اور کہا کہ اے نفس!میں نے ستر سال کہا کہ تو کافر ہے لیکن تم نے یقین نہیں کیا آج کوئی شک نہیں رہے کیونکہ مسلمانوں کے امام اور شرق وغرب کے مفتی نے تجھے کافر قرار دیا ہے اب اطاعت گزار بن جا مجھے مزید رنجیدہ مت کر ! اس کے بعد یہ رباعی گنگنایا    ؎

نفسی است مرا کہ غیر شیطانی نیست     وز فعل بدش ھمی پشیمانی نیست

ایمانش   ہزار  بار  تلقین     کردم       این  کافر   را  سر  مسلمانی  نیست

شیخ علاوالدولہ اپنے زمانے کے صوفیوں کا بےمثال مربی تھے آپ کے دستور العمل نے سالکین کو دین و دنیا کی سہولیات فراہم کیں۔ جامی نفحات الانس  میں لکھتے ہیں۔انہوں نے خود فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے  اس زمین اور اس کے مزارع کو اپنی حکمت سے تخلیق فرمایا اور یہ چاہتا ہے کہ یہ آباد ہو اور مخلوق کو فائدہ پہنچے۔اگر لوگ جان لیں کہ دنیا کو آباد کرنے میں جو فائدہ کے حصول  کے لئے ہو اسراف کے لئے نہ ہو اس میں کیا ثواب ہے؟ تو وہ ہرگز اس کام کو نہ چھوڑتے اور اگریہ جان لیتے کہ زمین کو آباد نہ کرنے اور چھوڑے رکھنے میں کیا گناہ ہے؟توہ ہرگز اپنے اسباب کو خراب ہونے نہیں دیتا جس کے پاس زمین ہو اور اس میں سے ہرسال۱۰۰۰من غلہ حاصل کر سکتاہو اگر کوتاہی اور بے مقصدچھوڑے رکھنے سے ۹۰۰من غلہ حاصل کرے اور اس کی وجہ سے وہ۱۰۰ من لوگوں کی حلق تک نہ پہنچ سکے اسی قدر اس سے حساب ہوگا ۔

اسی طرح اگر کوئی اس حال میں ہوکہ دنیا اور اس کی تعمیر میں مشغول نہ ہو اچھے وقتوں میں وہ سستی کی وجہ سے زمین کو آباد نہیں کرتا اور اس کا نام وہ ترک دنیا اور زہد رکھتا ہے وہ شیطان کے سوا کسی کی پیروی نہیں کرتا اور کوئی بھی دنیوی اور اخروی اعتبار سے بے کار آدمی سے کم نہیں ۔

شیخ علاوالدولہ بے نیازی اور فارغ البالی

قرن ہفتم وہشتم صدی ہجری کا بزرگ عارف شیخ علاوالدولہ کی ۷۷سالہ زندگی دو نمایاں حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے پہلا حصہ ۶۵۹ھ؁(سال ولادت)سے ۶۸۳ھ؁یعنی ۲۴ سال تک ہے روحانی حالت کی تبدیلی ،ذہنی بیداری،اور بلند ترین روحوں سے تعلق پر اختتام کو پہنچتا ہے۔ دوسرا حصہ ۶۸۳ھ سے۷۳۴ھ سال وفات تک کے دوران فکری انقلاب میں تبدیلی اور آخر میں کمال معنوی کے سرحد پر پہنچنے پر ختم ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے شیخ علاوالدولہ کی شہرت ،اہمیت اور روشن فکری اس کی زندگی کے دوسرے دور سے متعلق ہے اور حقیقت میں اسے  ایک نئی زند گی کانام دیاجا سکتا ہے۔انکی زندگی کے اسی درخشان دور نے آپ کی بلند ترین فکری جھلکیوںاور بلند مرتبہ انسانی رفتار وکردارکو ظاہرکیاہے۔ان میں سے ہمدان میں ارغون خان مغل سے ملاقات اور اس میں بادشاہ کے مقام ومرتبہ پر توجہہ نہ دینے کا ذکر آپ کے شاگرد امیر اقبال سیستانی نے چہل مجلس کی مجلس ششم میں کیا ہے۔اس سے آپ کی بے نیازی ،بے خوفی  اور فارغ البالی کی انتہاء پر پہنچنے اور حق، حقیقت، ﷲ پراعتقاد کے ساتھ مضبوط وبے تزلزل اور گہرے تعلق کی تائید ہوتی ہے جس طرح کہ بیان کرتے ہیں کہ:

شیخ قدس سرہٗ ارغون کے زمانے میں بغداد کے ارادے سے ہمدان پہنچ گئے تھے ارغون خان نے ایلچیوں کو بھیجا کہ اور آپ کو مجبور کرکے واپس لے گئے اور اپنے سامنے بلائے شیخ اس حکایت کو یوں بیان فرمایا ہے کہ: جب مجھے ارغون خان کے پاس لے گئے میں ان کے نزدیک گیا اور اس کے سامنے پالتی مارکر بیٹھ گیا چونکہ اس سے پہلے بھی دوران ملازمت اس کے ساتھ گستاخ رہا تھا اور وہ بعض اوقات مجھ سے مذاح کرتے تھے اسی طرح مذاح کا آغازکیا  اور سوچا ہوگا کہ میں بھی حسب سابق اس کے ساتھ مذاح کروں گا لیکن میں مراقبہ میں چلا گیا جتنا اس نے مذاح کیا اور باتیں کیں میں نے کسی کا جواب نہیں دیا پھر اس نے مجھے پکڑ کر کہا کچھ تو بولو لیکن میں اس کی جانب قطعاًمتوجہ نہیں ہوامیرا ماموں وزیر دیوان تھا اور خیمے کے باہر سے یہ سب کچھ دیکھ رہاتھا اندر آیا اور کہا کہ جواب دو  میں نے کہا کہ وہ اپنی جگہ چلا جائے مجھے ان سے اب کوئی سروکار نہیں ہے اﷲ تعائی کے سوا کسی سے کوئی خوف نہیں ہے ارغون خان ناراض ہو گیا اٹھا اور اپنی جگہ جا کربیٹھ گیا۔

انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ وہ فقیر لوگ جو اپنے کام میں مشغول ہوں بادشاہ کو درمیان آنے نہ دے کیونکہ ایک بیکار آدمی سو مصروف لوگوں کو کام سے روک لیتا ہے ۔

آپ کی مشہور رباعی جو ایرانیوں کی زندگی کا سر مشق رہے گی

صدخانہ اگر بہ طاعت آباد کنی    بہ زان نبود کہ خاطری شاد کنی

گربندہ کنی ز لطف آزادی را   بہتر کہ  ہزار بندۂ  آزاد  کنی

شیخ علاوالدولہ کی شاعری

تصنیف وتالیف کے علاوہ شیخ  علاوالدولہ شعر وشاعری میں بھی بہت دلچسپی رکھتے تھے اور اپنے بیشتر افکار اور آراء کو نظم کی صورت میں لے آتے تھے شیخ کے بہت سارے ارادتمند لوگوں میں سے مشہور شاعر خواجوی کرمانی زیادہ معروف ہے انہوں نے کچھ عرصہ دور سلوک میں شیخ علاوالدولہ کے پاس صوفی آباد سمنان میں گزارا تھا اور اعتکاف بھی بجا لایا تھا دولت شاہ سمرقندی خواجوی کرمانی کی شرح حال کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ سیاحت کے دوران شیخ العارفین، قدوۃ المحققین، رکن الملۃ والدین شیخ علاوالدولہ سمنانی قدس سرہ کی صحبت میں پہنچے اور ان کے مرید ی اختیار کی اور سالوں تک صوفی آبادمیں رہ کر شیخ کے اشعارکو جمع کیا اور یہ رباعی ان کے حق میں گویا ہوئے   ؎

ہرکو بہ رہ  علی عمرانی شد    چون خضر بہ چشمۂ حیوانی شد

ازوسوسہ وغارت شیطان وارست   مانند   علا والدولہ   سمنانی شد

استاد ذبیح اﷲ صفا مرحومشیخ علاوالدولہ سمنانی کے دیوان کے حصول کے بارے میں یوں لکھتے ہیں کہ دیوان شیخ علاوالدولہ کی جمع آوری کی نسبت خواجوی کرمانی کی طرف کرتے ہی ںاس دیوان کو شیخ علاوالدولہ کے شاگرد منہاج بن محمد السرائی کا لکھا خط نسخ میں لکھا ہوا ایک نسخہ کتابخانۂ ملی پارس فرانس میں شمارہ ۱۶۳۳Suppl:  ملاہے جو کہ۲۴ رمضان ۷۳۶ھ یعنی شیخ علاوالدولہ کی وفات کے دو ماہ بعد صوفی آباد سمنان خداداد میں اس کی کتابت مکمل ہوئی اصولاً اصل نسخہ معلوم نہیں کہ کہاں ہے؟ سے اخذ ہواہوگا چنانچہ شیخ علاوالدولہ کی تمام یادداشتیں اپنے بعض اشعار کے بارے میں اوران کی تحریرکے زمان ومکان کوبھی ظاہر کیے ہیں افسوس ہے کہ اس کے بعض صفحات ناپید ہیں اور اس کا ایک حصہ بغیر ترتیب کے منتشر ہے چنانچہ نسخے کا پہلا حصہ شیخ علاوالدولہ کے ایک قصیدے  سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد دیوان کا ۳۸ اوراق عربی میں ہے اور اس کے بعد اسی قصیدے کا آخری حصہ مکمل ہوا ہے۔ لیکن قصائد سمنانی نصیحت، تحقیق، عرفان، نعت، حمد، غزلیات، رباعیات سب کے سب شاعر کے عارفانہ مقاصد ہیں اور ان میں سے بعض مقام وموقع کی مناسبت سے بھی نظم ہوئے ہیں اور ان کے اشعار کا ایک حصہ تاریخی بھی ہے۔ بطور نمونہ یہاں صرف ایک کا ذکر کیاجاتا ہے

محبوب سے ملاقات کا واقعہ بوقت اشراق،بروز جمعہ ۱۰ ذی القعدہ ۷۲۳ھ کو پیش آیا ۔

در آمد دلبرم  صبحی  برم  خوش

خوشم دربر گرفت آن یار مہ وش

شیخ علاوالدولہ کے تمام اشعار درمیانہ ہیں اور ان کی اہمیت ساتویں اورآٹھویں صدی ہجری کے عارف سے انتساب ہونے سے بڑھ کر ہے ۔ شیخ علاوالدولہ نے ان اشعار میں کبھی”علاوالدولہ” اور کبھی “علا” تخلص اختیار کیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں